ای کیپ پروفیشنلز نے پچھلے ایک برس سے انوائرمنٹ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن پاکستان کی موجودہ بارہویں میٹنگ کو ملا کر ایک بامقصد انداز میں متحرک رکھا ہوا ہے اور یہ پونے دو سو اراکین پر مشتمل ایک ایسا بااعتماد ماحولیاتی گروپ ہے جو عالمی، قومی اور مقامی ماحول پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ اس گروپ میں ماحولیات کو مرکز میں رکھ کر تمام ایسے سماجی و حکومتی اقدامات (ESG یعنی انوائرنمنٹ، سوشل اور گورننس) پر سیر حاصل گفتگو اور عملی اقدامات کئے جاتے ہیں جس سے نوخیز پروفیشنلز کی ماحول بارے ذہن سازی کی جاتی ہے۔
ایکو کئیر کنسلٹینسی سروسز (ECCS) کی 16 اگست کو ہونے والی ایک کمپنی میٹنگ میں ہائیڈرولوجسٹ اور متحرک کونٹنٹ رائیٹر مس انعم عروج نے ای کیپ کے اراکین کو اپنے گاؤں اگلی میٹنگ کے لئے مدعو کیا اور ای کیپ کی شجر کاری کی جاری مہم کے لئے اپنے فارم ہاؤس کا ایک قطعہ اراضی اس نیک مقصد کے لئے مخصوص کر دیا۔ چونکہ ان دنوں جنوبی پنجاب سے راقم کے علاؤہ محترم ریٹائرڈ ڈائیریکٹر محکمہ ماحولیات میاں خالد محمود بھی لاہور میں تھے اس لئے فیصلہ ہوا کہ جلد از جلد شجر کاری والا فریضہ بھی سر انجام دے دیا جائے لہذا ای کیپ کی ایک ایمرجنگ میٹنگ کا انعقاد سرحدی گاؤں بھیسن میں کیا گیا۔
عمومی کاروائی
1۔ لاہور شہر سے مہمان شرکاء و نامزد عہدہ داران ای کیپ کا چار افراد پر مشتمل قافلہ ایک بجے دوپہر چیئرمین صاحب کے ڈیرے پر پہنچا۔ جہاں گاؤں کے اکابرین نے ان کا بھرپور استقبال کیا اور میو برادری کے روائتی انداز میں سب سے پہلے برنچ پیش کر کے مہمانوں کی خاطر مدارت کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس برنچ میں انواع و اقسام کے دیسی کھانے پیش کئے گئے اور بہترین ماحول دوست ہونے کا یوں ثبوت پیش کیا گیا کہ کسی قسم کا کولڈ ڈرنک، پلاسٹک کا برتن اور ائیر کنڈیشنڈ کا استعمال نہیں کیا گیا بلکہ ناظم صاحب نے بتایا کہ اپنے مویشیوں کے گوبر کو جلا کر مٹی کے برتنوں میں ہنڈیا پکائی جاتی ہے۔ استقبالیہ اراکین میں شامل پتوکی کی ایک روحانی شخصیت استاد محترم جان محمد نے عالم اسلام، ملک و قوم اور ای کیپ کے ماحولیاتی ماہرین کی صحت و کامیابی کے لئے دعائے خیر کی۔
2۔ دوسرے مرحلے میں ای کیپ کے لاہور اور جنوبی پنجاب سے سے آنے والے مہمانوں اور میزبانوں کے سات افراد نے راوی سائفن کا مطالعاتی دورہ کیا۔ یہ سائفن عالمی دریائی گذرگاہوں کے معاہدات کا اولین شاہکار ہے اور پاک بھارت سندھ طاس منصوبے کی خاص نشانی بھی ہے نیز بھارت کے حصے میں آنے والے مشرقی دریائے راوی کا وہ مشہور مقام بھی ہے جہاں دریا کے پانی کو اٹھا کر BRB نہر میں پھینکا جاتا ہے۔ مطالعاتی گروپ کو ڈاکٹر سلطان محمود نے اس مقام کی اہمیت بارے ایک مختصر بریفنگ بھی دی۔
3۔ سائفن سے واپسی پر دوبارہ بھیسن گاؤں کے ڈیرے کا دورہ کیا گیا جہاں کینو، لوکاٹ اور انار کے پانچ پھلدار پودے ای کیپ کے اراکین نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس دعا کے ساتھ لگائے کہ رب تعالیٰ ملک عزیز کو نہ صرف ہرا بھرا رکھے بلکہ اس سرحدی گاؤں کو دشمن کے شر سے بھی محفوظ رکھے جو مشرقی جانب صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر سر پر بیٹھا ہوا ہے۔
ناظم صاحب کے عمدہ ذوق کا ثبوت ان کا وہ خوبصورت لان تھا جو ڈیرے کے ایک جانب مختلف پھلوں، پھولوں اور سایہ دار درختوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس لان کو چوہدری اسلام صاحب نے ای کیپ کے نام سے منسوب کر دیا۔ اس لان میں بکریوں کی دست برد سے بچاؤ نیز پانی دینے و دیگر دیکھ بھال کا پورا انتظام موجود ہے۔
یہاں پر مہمانوں نے ٹیوب ویل کے ٹھنڈے میٹھے پانی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ ٹریکٹر کی سواری بھی کی اور خالص دیہاتی کلچر کو نہائت قریب سے محسوس کیا۔ علاؤہ ازیں ایک ہاؤسنگ سکیم، چند فارم ہاؤسز اور ڈھور ڈنگر کے باڑے کا بھی دورہ کیا گیا جہاں دن کی دوسری چوائی کا بندوبست ہو رہا تھا۔
4۔ ڈیرے سے رخصتی کے بعد مہمانوں کو ناظم صاحب کے گھر پھر روکا گیا اور تحائف پیش کئے گئے اور ایک بار پھر پُرتکلف چائے پیش کی گئی۔ سبھی مہمانوں نے پرتکلف دیسی کھانوں اور پرتپاک استقبال پر میزبانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور عصر کے وقت گاؤں سے رخصت لی۔ مہمانوں کی گاڑی کو نہر سے گاؤں اور دوبارہ نہر تک کے دو کلومیٹر تک فاصلے کو ایک ہراول گاڑی نے اسکارٹ بھی کیا۔ یوں یہ زندگی، جوانی، رنگ برنگے تنوع اور دوبارہ سکول دور میں لوٹا دینے والی یادگار بارہویں میٹنگ اپنے احتتام کو پہنچی۔ راقم نے تمام ایونٹس کے فوٹو سیشنز کا ریکارڈ بھی تیار کیا۔
رپورٹ میاں وقار الاسلام
نامزد سیکرٹری جنرل ای کیپ۔
23 اگست 2024ء
