فکرِ سلطان سیریز، ڈاکٹر سلطان محمود

سیریز دوم میں مزکور جناب راشد القیوم کے مشورے سے ماحولیات کے مضمون میں آنے کی وجہ سے ہی ڈاکٹر سلطان محمود کی زندگی کی کہانی ماحولیات، سماجی سیٹ اپ اور گورننس کو بچانے کی جدوجہد کی وہ زندہ مثال ہے جس میں نصابی اور زمینی حقائق دونوں کام آئے۔ وہ اپنے سیارے کے ماحولیاتی نظام کے کام اور ضرر رساں کارٹیل اور اس کے حامیوں کے تباہ کن اثرات کو گہرائی سے سمجھتے ہیں۔اس سیریز میں شامل سات کتب کو پڑھنا ان گہرے مسائل کے اسباب کے بارے میں قاری کے ذہن کو کھولے گا جس میں چند لوگ اپنے برے اعمال کی وجہ سے اکثریت کو دھکیل رہے ہیں نیز اس کے مطالعے سے قاری کو حکومت کے طاقتور تکبر سے نکل کر کسان کی طرف پلٹنے کی امید اور حوصلہ بھی دے گا۔یہ خوبصورتی سے لکھی گئی یادداشت ایک زبردست داستان ہے جو زمین، زندگی اور ہمارے قیمتی سیارے کی سالمیت کی خواہش رکھنے والے ہر فرد کو معلوم ہونی چاہیے۔مغربی کارپوریٹ سیکٹر کے ای ایس جی (ماحول ، سماج، طرز حکومت) کی جانب کی جانب کاروباری جھکاؤ سے مصنف نے جو کچھ امریکہ، یورپ اور خلیجی ممالک سے سمجھا، وہ اس نے اپنے  ماحول دوست کاروبار ایکوکیئر کنسلٹنسی سروسز (ای سی سی ایس) پرائیویٹ لمیٹیڈ اور سوشل میڈیا آگاہی والے گروپس اور چینل کے ذریعے آنے والی نسل کو پوری طرح سے آگاہ کر دیا ہے۔ اس سیریز کا 30 کُتب کی شکل میں  مخطوطہ بڑی تفصیل سے واضع کرتا ہے کہ جونہی ملک کو  کارپوریٹ کلچر کے ذریعے ترقی کی جانب غیر متوازن انداز میں دھکیلا جاتا ہے تو وہ  کس طرح ہمارے مجموعی سماجی ڈھانچے کو  منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔  اس سے  ملک میں ماحولیات اور سماج  کے درمیان ایک غیر متوازن جنگ چھڑ جاتی ہے۔ جو بالآخر وسائل کی نا منصفانہ تقسیم پر منتنج  ہوتی ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے تئیں تمام  چار سو سے زائید ماحولیاتی پراجیکٹس میں قابل کاشت زمین، انسانی روزگار اور گرم ہوتے  ہوئےکرہ ء زمین کے باعث گلیشئیر پگھل کر طوفانی انداز اختیار کرنے جیسے مضامین کو کافی گہرائی سے دیکھ کر اپنی رپورٹس میں سمویا ہے۔نیز اس سیکٹر میں پورا جذب ہونے کے لیے اپنی سرکاری نوکری سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر نیسپاک جیسی قومی و عالمی ایجنسیوں کے ماحولیاتی پروگرام  کا جارحانہ حصہ بن کر انسانی غذا کی تخفیفی سائنس  سے بھرپور کام لیا ہے  اور ماحولیاتی پراجیکٹس کو کامیابی سے ہمکنار کر کے ملک کے عوام اور حکومت کے کام کو نہائیت آسان بنا دیا ہے۔ حالانکہ ایک موقع ایسا بھی آیا جب نیسپاک میں موجود بھارتی لابی جماعت علی شاہ کے ذریعے ان سے پوری قوت سے ٹکرا گئی، مگر جنرل زبیر کی بر وقت مداخلت سے ڈاکٹر صاحب کی کاوشیں مزید ابھر کر سامنے آ گئیں۔

Dr. Sultan Mahmood’s involvement in environmental studies expanded as he explored the devastating effects of corporate cartels and their impact on the global ecosystem. Through his research and advocacy, he emphasized the importance of government accountability and sustainable practices, particularly in the agricultural sector. This series underscores his efforts to address environmental issues in Pakistan, with a focus on water resources, land use, and climate adaptation.

رابطہ کیجئے
لاہور ‏109-C/1، نیسپاک سوسائٹی، کالج روڈ

وٹس ایپ اور کالز
رابطہ نمبر:  00923214302528

مذید معلومات کے لیے
 info@drsultanmahmood.com
 www.drsultanmahmood.com

ملتان سے سیالکوٹ تک علمی، ادبی اور ثقافتی دوستی کا سفرتحریر: میاں وقارالاسلام کرونا کی وجہ سے سماجی فاصلے اس قدر بڑھتے جا رہے تھے کہ ایسا لگتا تھا کہ دوستوں سے ملے ہوئے صدیاں ہی گذر گئیں۔ دوریاں تو تھیں ہی، مگر دوریاں بھی ایسی کہ کہیں سے جب…

View more

“غذائی علاج” توں “تفریحی علاج” تک رپورٹ: میاں وقارالاسلام، فاؤنڈر، وقارِ پاکستان لیٹریری ریسرچ کلاؤڈ 27 نومبر 2021 نوں، محمد ذوالقرنین مغل صاحب، جو کہ ایکمے انسٹیٹیوٹ آف سیفٹی پروفیشنلز دے ڈائریکٹر جنرل نے ڈاکٹر سلطان محمود دی کتاب “غذائی علاج” دی رونمائی دی تقریب دا انعقاد کیتا۔ ایہہ تقریب…

View more

ای کیپ پروفیشنلز نے پچھلے ایک برس سے انوائرمنٹ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن پاکستان کی موجودہ بارہویں میٹنگ کو ملا کر ایک بامقصد انداز میں متحرک رکھا ہوا ہے اور یہ پونے دو سو اراکین پر مشتمل ایک ایسا بااعتماد ماحولیاتی گروپ ہے جو عالمی، قومی اور مقامی ماحول پر توجہ…

View more

ادب سرائے سے سرائے ادب تکتحریر: میاں وقارالاسلاممادرِ دبستانِ لاہور ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کی ادبی تنظم ادب سرائے انٹرنیشل یقینا ایک ادبی نرسری کی حیثیت رکھتی ہے۔ ادب سرائے انٹرنیشنل کی مٹی نم بھی ہے اور ذرخیز بھی۔ اور جو رشتوں اسی مٹی سے پروان چڑھے ان میں ایک…

View more

تقریظی مضامین