
سیریزچہارم: ماحول وموسمی تبدیلی
سیریز دوم میں مزکور جناب راشد القیوم کے مشورے سے ماحولیات کے مضمون میں آنے کی وجہ سے ہی ڈاکٹر سلطان محمود کی زندگی کی کہانی ماحولیات، سماجی سیٹ اپ اور گورننس کو بچانے کی جدوجہد کی وہ زندہ مثال ہے جس میں نصابی اور زمینی حقائق دونوں کام آئے۔ وہ اپنے سیارے کے ماحولیاتی نظام کے کام اور ضرر رساں کارٹیل اور اس کے حامیوں کے تباہ کن اثرات کو گہرائی سے سمجھتے ہیں۔اس سیریز میں شامل سات کتب کو پڑھنا ان گہرے مسائل کے اسباب کے بارے میں قاری کے ذہن کو کھولے گا جس میں چند لوگ اپنے برے اعمال کی وجہ سے اکثریت کو دھکیل رہے ہیں نیز اس کے مطالعے سے قاری کو حکومت کے طاقتور تکبر سے نکل کر کسان کی طرف پلٹنے کی امید اور حوصلہ بھی دے گا۔یہ خوبصورتی سے لکھی گئی یادداشت ایک زبردست داستان ہے جو زمین، زندگی اور ہمارے قیمتی سیارے کی سالمیت کی خواہش رکھنے والے ہر فرد کو معلوم ہونی چاہیے۔مغربی کارپوریٹ سیکٹر کے ای ایس جی (ماحول ، سماج، طرز حکومت) کی جانب کی جانب کاروباری جھکاؤ سے مصنف نے جو کچھ امریکہ، یورپ اور خلیجی ممالک سے سمجھا، وہ اس نے اپنے ماحول دوست کاروبار ایکوکیئر کنسلٹنسی سروسز (ای سی سی ایس) پرائیویٹ لمیٹیڈ اور سوشل میڈیا آگاہی والے گروپس اور چینل کے ذریعے آنے والی نسل کو پوری طرح سے آگاہ کر دیا ہے۔ اس سیریز کا 30 کُتب کی شکل میں مخطوطہ بڑی تفصیل سے واضع کرتا ہے کہ جونہی ملک کو کارپوریٹ کلچر کے ذریعے ترقی کی جانب غیر متوازن انداز میں دھکیلا جاتا ہے تو وہ کس طرح ہمارے مجموعی سماجی ڈھانچے کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔ اس سے ملک میں ماحولیات اور سماج کے درمیان ایک غیر متوازن جنگ چھڑ جاتی ہے۔ جو بالآخر وسائل کی نا منصفانہ تقسیم پر منتنج ہوتی ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے تئیں تمام چار سو سے زائید ماحولیاتی پراجیکٹس میں قابل کاشت زمین، انسانی روزگار اور گرم ہوتے ہوئےکرہ ء زمین کے باعث گلیشئیر پگھل کر طوفانی انداز اختیار کرنے جیسے مضامین کو کافی گہرائی سے دیکھ کر اپنی رپورٹس میں سمویا ہے۔نیز اس سیکٹر میں پورا جذب ہونے کے لیے اپنی سرکاری نوکری سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر نیسپاک جیسی قومی و عالمی ایجنسیوں کے ماحولیاتی پروگرام کا جارحانہ حصہ بن کر انسانی غذا کی تخفیفی سائنس سے بھرپور کام لیا ہے اور ماحولیاتی پراجیکٹس کو کامیابی سے ہمکنار کر کے ملک کے عوام اور حکومت کے کام کو نہائیت آسان بنا دیا ہے۔ حالانکہ ایک موقع ایسا بھی آیا جب نیسپاک میں موجود بھارتی لابی جماعت علی شاہ کے ذریعے ان سے پوری قوت سے ٹکرا گئی، مگر جنرل زبیر کی بر وقت مداخلت سے ڈاکٹر صاحب کی کاوشیں مزید ابھر کر سامنے آ گئیں۔

Series Four: Environment and Climate Change
Dr. Sultan Mahmood’s involvement in environmental studies expanded as he explored the devastating effects of corporate cartels and their impact on the global ecosystem. Through his research and advocacy, he emphasized the importance of government accountability and sustainable practices, particularly in the agricultural sector. This series underscores his efforts to address environmental issues in Pakistan, with a focus on water resources, land use, and climate adaptation.

