فکرِ سلطان سیریز، ڈاکٹر سلطان محمود

ڈاکٹر سلطان محمود نے اپنی نصف صدی کی کاوش کو سائنسی انداز میں تحریکی کارکن بن کر چلایا نیز غذائی تحفظ کی عالمی خودمختار تحریک کو مقامی رہنما کے طور پر پاکستان میں ایک غیرمعمولی موڑ دیا ہے جس کے نتیجے میں ان کے افکار اوعملی جدوجہد نے ‘فکر سلطان’ جیسی ایک طاقتور دستاویز جنم دی ہے۔ اس میں وہ اپنی آدھی صدی کی شبانہ روز کی ہَمَہ جِہَت کوشش کو شاندار کہانی کے طور پر بیان کرتے ہوئے اہم معلومات سے بھری وہ تاریخ بھی بیان کر رہے ہیں جو ملک عزیز کے غیر مستحکم حالات کے باوجود مقامی اور نچلی سطح کے مسائل کو قومی اور عالمی سطح پر کچھ اس انداز سے اٹھا لے جاتے ہیں کہ جہاں وہ حیاتیاتی تنوع یا بائیو ڈائیورسٹی کی ہئیت تبدیل کئے بغیر کارپوریٹ تسلط کے ساتھ جنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ ڈویلپمنٹ مافیا کے خلاف کس طرح نچلی سطح کی لڑائی کو اٹھا کر قومی اور عالمی سطح پر لے جایا جاتا ہے۔ ان کی یہ سوچ بھی قابل داد ہے کہ دنیا بھر میں مقامی سطح کی کمیونٹی ہمیشہ مقدس اور خودمختار ہونی چاہئے تا کہ وہ اپنے علم اور حقوق کو حاصل کر کے مستقبل کی دنیا کی حقیقی کہانی کا نقشہ ترتیب دے سکے۔  ڈاکٹر صاحب کی پیشہ ورانہ زندگی شاید اتنی مؤثر نہ رہتی اگر ان کے ہم عصر مخالفین نے ان کو یونیورسٹی میں پروفیسر لگنے سے روکا نہ ہوتا یا پھر حکومت میں موجود  خوشامدی بونوں نے ان کی ٹانگیں نہ کھینچی ہوتیں۔ وگرنہ وہ ایک عام سے حاشیہ بند غیر مؤثر پروفیسر اور ڈائیریکٹر جرنل بن کر بیکار لوگوں کے اس تالاب میں جا گرتے جن پر آنے والے وقت کی نسلیں تو یک جانب ان کے ہم عصر پھر دوبارہ نگاہ ِغلط ڈالنا گوارا نہیں کرتے۔ گو کہ ڈاکٹر صاحب نے خود عدالتی سطح پر بھی لڑ کر کاغذی شیر یعنی پروفیسر بننا چاہا لیکن کہتے ہیں کہ قدرت آپ کے بارے میں بہتر فیصلے کرتی ہے لہذا اینمل سائنسز کے دشمن وٹرنری مافیا نے ان کو اس یونیورسٹی  “یو وی اے ایس” میں گھسنے ہی نہیں دیا جس کے پہلے کانسیپٹ نوٹ کی گورنر پنجاب خالد مقبول سے منظوری لینے والوں میں وہ خود بھی شامل تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی یہ فکری مسافت مندرجہ ذیل دس سیریز پر مشتمل ہے۔

ایک شاندار اورسمجھدار دماغ، شفاف کردار، شاعرانہ روح اور نچلی سطح کی تنظیموں میں مہارت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈاکٹر سلطان محمود نے ملکی ترقی کے مسائل اور تحریکوں کے سب سے زیادہ موثر اور محبوب لیڈروں کے جھرمٹ کے باوجود اپنا مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی سرشت میں موجود غیر معمولی قدرتی تحائف میں ایشیا ، یورپ، امریکہ، تین برآعظموں کی سات جامعات سے حاصل شدہ اعلی ترین تعلیم و تربیت نےبے مثال مہمیز لگائی اور عام انسان کی غذائی ضروریات اور قدرتی ماحول کے درمیان گہرے تعلق کا ادراک  راسخ کیا ہے ۔ غذائے انسانی میں استعمال ہونے مویشیوں پر ماحول اور عالمی جدت کے اثرات نیز ان کے  انسانی صحت پر مرتب ہونے والی ضمنی اثرات کے بارے میں وہ آزادانہ اور گہری تفہیم بھی شامل ہے جو سیاسی رویوں کی زبوں حالی کے باعث ہمیشہ زوال پذیر رہی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ مطلق العنان سیاسی اور پدرسری نظام سے کس طرح کی حکمت سے جنگ جیتی جاتی ہے اور کیسے انسانیت اورعام انسان کی تخلیق کو یکجا کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ انہوں نے اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے ایک عام سے متوسط گھرانے سے اُٹھ کر 17 سے  زائید ممالک میں اپنی صلاحیتوں کا   لوہا منوایا ہے اس لیے قاری کو ان کی زندگی کے سفر کو پڑھ کرہی اندازہ ہو گا  کہ محدود مالی وسائل سے پھرپور فایدہ اٹھانے کی خاطرکوئی   بھی لمحہ فروع گذاشت  نہ کرتے ہوئے کیسے،”  تبدیلی کا ڈھانچہ “تیار کیا جا سکتا ہے۔یہ سیریز بارہ کتب پر مشتمل ہے جس میں ان کی نجی زندگی کی چیدہ چیدہ کوششوں کو ان کے ہم عصروں کی تائید سے واضع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سیریز کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ ایک پیشہ ور سائنسدان کی قدر اپنے سماج کے لیے مؤثر ہو گی۔ جس کا آئی کیو اوسط پاکستانی سے دُگنا ہو نیز وہ ٹی وی اور سونے  کے اوقات میں سے ہم عصروں سے اوسط آدھا وقت بچا کر دراصل “ون مین آرمی” بن چکا ہو۔

غذائی علاج جیسی اپنی پچھلی مشہور کتابوں کی طرح، مصنف ماحولیاتی حکمت، پرجوش سرگرمی اور بے عیب پیشہ ورانہ سوچ کے ساتھ پھر سے چمک رہا ہے۔اس سیریز میں مصنف کی نگارشات اس بات کا ثبوت دیتے دکھائی دیتی ہیں جو انسانی خوراک و غذا پر موسمیاتی تبدیلی کے برے اثرات کو کم کرنے کے لیے مقامی اور بین الاقوامی کارپوریٹ سطح کی کوششوں کے لیے کیے جانے ضروری ہیں۔ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ مصنف نے کس طرح حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور کسان برادریوں کے حقوق کے لیے اپنی کوششوں کو حوصلے کے ساتھ جاری رکھا۔مصنف نے  1997 میں  انسانی غذا و صحت کے میدان میں چھلانگ لگائی اور پھر اسے اس وقت تک اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا جب تک کہ ورلڈ بنک  اسلام آبادکے راشد القیوم کے مشورے کے پیش نظر ڈاکٹریٹ کے بارہ برس بعد پنجاب یونیورسٹی سے ماحولیات کی ڈگری نہیں لے لی۔ اور پھر سے انہوں نے انسانی غذا کی پیداوار  پر ماحول کے اثرات کا تفصیل سے جائزہ لینا  شروع کر دیا۔ لہذا اس سیریز کی تیس کتب سے قاری درست اندازہ لگا پائے گا کہ وہ اپنے اس مشن میں کس حد تک کامیاب رہے۔

غذائی تحفظ کی تخفیفی سائنس تقاضہ کرتی ہے کہ پیچیدہ سائنسی و معاشی معاملات کو ان کی سادہ ترین اشکال میں ڈھال کر سائنسی وسائل اور انسانی مسائل کو آسان تر بنایا جا سکے۔تخفیفی سائنس کے تنقیدی اظہاریے جیسا مضبوط پس منظر رکھنے والے ڈاکٹر سلطان محمود نچلی سطح کی متعدد انجمنوں اور تحریکوں کا ایک سنسنی خیز موجد، شریک موجد اور کٹڑ حمایتی بھی رہے ہیں۔ نیز افزائشِ حیوانات، جنگلات، پانی اور کسان تنظیموں کے تحفظ کی ان تمام ضروری تحریکوں کے روح رواں بھی ہیں جو زندہ زرعی معاشرے کا تانا بانا ہیں۔وہ یقین رکھتےہیں کہ اس تانے بانے سے انسانی دنیا کا اہم ترین مسئلہ یعنی “بھوک سے نجات” والا کپڑا  بنا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کو حصول میں ا س کی جس مضمون نے سب سے زیادہ رہنمائی کی وہ ان کے گریجوایشن کے مضامین تھے ۔جنہوں نے انسانی غذا میں شامل  حیوانات سے حاصل کردہ چالیس فی صد جزو غذا کا ادراک گہرا کیا۔ گوشت، دودھ اور انڈے کی پیداوار اور پھر متناسب پیداوار انسان کو بھوک کے المیے سے دو چار نہیں ہونے دیتی۔  نیز یہ بھی حقیقت ہے کہ ان حیوانات سے حاصل ہونے والے دیگر ضمنی پیداواری ذرائع معشیت کا پہیہ جاری و ساری رکھنے میں مدد بھی کرتے ہیں جیسے چمڑہ ، اون اور ذرائع نقل و حمل وغیرہ۔

سیریز دوم میں مزکور جناب راشد القیوم کے مشورے سے ماحولیات کے مضمون میں آنے کی وجہ سے ہی ڈاکٹر سلطان محمود کی زندگی کی کہانی ماحولیات، سماجی سیٹ اپ اور گورننس کو بچانے کی جدوجہد کی وہ زندہ مثال ہے جس میں نصابی اور زمینی حقائق دونوں کام آئے۔ وہ اپنے سیارے کے ماحولیاتی نظام کے کام اور ضرر رساں کارٹیل اور اس کے حامیوں کے تباہ کن اثرات کو گہرائی سے سمجھتے ہیں۔اس سیریز میں شامل سات کتب کو پڑھنا ان گہرے مسائل کے اسباب کے بارے میں قاری کے ذہن کو کھولے گا جس میں چند لوگ اپنے برے اعمال کی وجہ سے اکثریت کو دھکیل رہے ہیں نیز اس کے مطالعے سے قاری کو حکومت کے طاقتور تکبر سے نکل کر کسان کی طرف پلٹنے کی امید اور حوصلہ بھی دے گا۔یہ خوبصورتی سے لکھی گئی یادداشت ایک زبردست داستان ہے جو زمین، زندگی اور ہمارے قیمتی سیارے کی سالمیت کی خواہش رکھنے والے ہر فرد کو معلوم ہونی چاہیے۔مغربی کارپوریٹ سیکٹر کے ای ایس جی (ماحول ، سماج، طرز حکومت) کی جانب کی جانب کاروباری جھکاؤ سے مصنف نے جو کچھ امریکہ، یورپ اور خلیجی ممالک سے سمجھا، وہ اس نے اپنے  ماحول دوست کاروبار ایکوکیئر کنسلٹنسی سروسز (ای سی سی ایس) پرائیویٹ لمیٹیڈ اور سوشل میڈیا آگاہی والے گروپس اور چینل کے ذریعے آنے والی نسل کو پوری طرح سے آگاہ کر دیا ہے۔ اس سیریز کا 30 کُتب کی شکل میں  مخطوطہ بڑی تفصیل سے واضع کرتا ہے کہ جونہی ملک کو  کارپوریٹ کلچر کے ذریعے ترقی کی جانب غیر متوازن انداز میں دھکیلا جاتا ہے تو وہ  کس طرح ہمارے مجموعی سماجی ڈھانچے کو  منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔  اس سے  ملک میں ماحولیات اور سماج  کے درمیان ایک غیر متوازن جنگ چھڑ جاتی ہے۔ جو بالآخر وسائل کی نا منصفانہ تقسیم پر منتنج  ہوتی ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے تئیں تمام  چار سو سے زائید ماحولیاتی پراجیکٹس میں قابل کاشت زمین، انسانی روزگار اور گرم ہوتے  ہوئےکرہ ء زمین کے باعث گلیشئیر پگھل کر طوفانی انداز اختیار کرنے جیسے مضامین کو کافی گہرائی سے دیکھ کر اپنی رپورٹس میں سمویا ہے۔نیز اس سیکٹر میں پورا جذب ہونے کے لیے اپنی سرکاری نوکری سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر نیسپاک جیسی قومی و عالمی ایجنسیوں کے ماحولیاتی پروگرام  کا جارحانہ حصہ بن کر انسانی غذا کی تخفیفی سائنس  سے بھرپور کام لیا ہے  اور ماحولیاتی پراجیکٹس کو کامیابی سے ہمکنار کر کے ملک کے عوام اور حکومت کے کام کو نہائیت آسان بنا دیا ہے۔ حالانکہ ایک موقع ایسا بھی آیا جب نیسپاک میں موجود بھارتی لابی جماعت علی شاہ کے ذریعے ان سے پوری قوت سے ٹکرا گئی، مگر جنرل زبیر کی بر وقت مداخلت سے ڈاکٹر صاحب کی کاوشیں مزید ابھر کر سامنے آ گئیں۔

ڈاکٹر سلطان محمود کی ذاتی کاوشوں کا سارا نچوڑ صرف” غذائی تحفظ “کے اردگرد ہی گھومتا ہے۔ جسے اصولی طور پر اولین سیریز میں جگہ ملنی چاہیے تھی، لیکن تخفیفی سائنس کا خوگر ہونے کے باعث انہوں نے مناسب جانا کہ پہلے ان اوامر کا  ذکر کیا جائے جو غذائی تحفظ یا عدم تحفظ کا باعث بنتے ہیں۔ تبھی انہوں نے اپنے فکر ی سفر کا آغاز  ہڈ بیتی کے فوراََ بعداپنے  پسندیدہ مضمون (سیریز دوم غذا و صحت )سے شروع کرنا مناسب جانا اور انسانی صحت پر غذا کی ضروریات اور اثرات کا شروع میں جائزہ پیش کر دیا ۔یعنی باالفاظ دیگر اپنی  فکر کی بنیاد انسانی جِبِلَّت “بھوک “پر رکھی۔ پھر مناسب انسانی صحت برقرار رکھنے کے لیے مناسب غذا کی پیداوار، سپلائی چین، قوتِ خرید اور جسمانی ضروریات پر تحقیقات کیں۔ دھیرے دھیرے اس تخیل کو  راسخ کر لینے کے بعد وہ اپنے بنیادی مضمون یعنی ان حیوانات کی جانب پلٹے جو انسانی خوراک میں دودھ ، گوشت اور انڈے کی شکل میں روزانہ کی ضرورت کا چالیس فی صد پر مشتمل ہے۔ اس منطقی تعلق سے ان کی فکری گہرائی کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ اگر بہترین اور مناسب ماحولیاتی انتظامات کر کے پانی کے ذرائع پر بحث مکمل کر لی جائے تو یہ غذائی تحفظ کی ایک ایسی گارنٹی ہے جو افزائشِ حیوانات کے ذریعے کم از کم انسانی صحت کی ضامن ہے۔ یہاں یہ بھی واضع ہوجاتا ہے کہ شدید سیلاب ہر سال  جوحیوانات کی تباہی لاتے ہیں ان پر موئثر قابو پا کر انسان کم سے کم چالیس فی صد  غذائی خزانے کو تو یقینی طور پر بچا سکتا ہے۔ ان کی یہ منطقی سوچ یورپ اور امریکن جامعات کی فلاحی سائنسیز پر کام کر کے پیدا ہوئی۔ گو کہ ڈاکٹر سلطان محمود کے تیکنیکی کام میں سب سے کم کتب اسی غذائی تحفظ سیریز کا حصہ بنیں لیکن حقیقت بھی یہی ہے کہ عظیم تحقیقات اور کاوشوں کا خلاصہ ہمیشہ مختصر ہوتا ہے۔

ویسے تو حیوانات کی افزائش ایک دیہی  موضوع ہے جہاں  ہمارا 70 فی صد کسان اپنا خون جلا کر صبح شام انسانی غذا ئیں پیدا کرتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں کے غیر متوازن دیہی ترقی کے میدان کی بجائے ہمیشہ شہری ترقی و سہولیات کو اولیت حاصل رہتی ہے۔ جس نے ایک جانب اگر غذائی عدم تحفظ  کا خطرہ مول لے لیا ہے تو دوسری  جانب شہر کی طرف نقل مقانی یعنی اربنائزیشن   کی عفریت کو بھی جنم دیا ہے۔ ایسے غیر دانشمندانہ حکومتی اقدامات  کا نتیجہ ایک ایسی بے ہنگم معاشرتی زندگی کی شکل میں رونما ہوا ہے کہ جس میں حکومت   گاؤں  چھوڑکر شہر  میں بسنے والوں کے مسائل کو شہری ترقی کی ناکامی کی شکل میں  سہہ رہی ہے اور نہ ان کو خداہی  مل پا رہا ہے اور نہ  وصالِ صنم ہو رہا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو تو خیر چھوڑیں اگر کل کے غریب چین اور بھارت ہی کی مثال لے لیں تو ان کے ہاں غذائی تحفظ شہر و دیہاتی زندگی میں توازن لانے سے ممکن ہوا ہے۔ اور محض بیس برس میں ان دو ممالک کے دو ارب لوگ  دن میں ایک کھانے سے دو کھانوں کے قابل ہو گئے ہیں۔  ان دونوں ممالک نے اپنے آبی ذخائر پر ہزاروں ڈیم بنا دیئے ہیں جن سے  وہ نہ صرف غذائی تحفظ یقنی بنا رہے ہیں بلکہ اپنی توانائی کی ضروریات بھی پوری کر رہے ہیں ۔ حالانکہ عالمی موسمی تبدیلیاں ان پر بھی ویسے ہی اثر انداز ہورہی ہیں جیسے باقی کرہء ارض پر رونما ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر سلطان محمود مانتے ہیں کہ اگر انہوں نے کبھی بلوچستان کی دیہی ترقی BRSP  میں کام نہ کیا ہوتا تو وہ یقینا غذائی تحفظ میں دیہی اداروں کی افادیت سے قما حقہ واقف نہ ہو سکتے۔

ڈاکٹر سلطان محمود اپنے عالمی ایکسپوژر کے باعث خلیجی ممالک میں رواج پا جانے والے حالیہ شعبہ جات میں ماحولیات سے متصلہ کارپوریٹ سیکٹر کی نئی جہت ای ایس جی سے کافی متاثر ہوئے لہذا انہوں نے ملک عزیز کی اس شعبہ میں لاعلمی کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی کل نگارشات میں سے سوشل اور گورننس کے شعبہ جات کو ماحولیات کی کتب کے علاؤہ خود مختار کتابی درجہ دے دیا اور اس کے لئے انہوں نے کارپوریٹ سیکٹر کی بڑھوتری میں سیاست، مذہب، تعلیم، آبادی، تکنیکی تربیت، شہری و دیہی ترقی وغیرہ جیسے اہم موضوعات پر جو کچھ تجربات حاصل کئے تھے اسے اکٹھا کر کے اس سیریز کا حصہ بنا دیا ہے۔ سابقہ اعتبار سے وہ اپنی نگارشات کو حاصل مطالعہ بھی کہتے ہیں اور کامن سینس کا بھی نام دیتے رہے یعنی  اس مطالعے کا حاصل جو انہوں نے مغرب سے حاصل کیا اور سنجیدہ عملی و علمی سفر کو اپنے وطن میں بھی اپنی ہمت کے مطابق  لاگو کر دیا۔ گو کہ وہ اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ “کامن سینس” اتنی بھی کامن نہیں ہوتی” لیکن اُمید ِواثق بھی جاری رکھی کہ جونہی عوام خصوصا ََکسان میں تعلیمی کمی دور ہو گی،سماج میں لازمی بہتری آئے گی۔

اس جہت پر ڈاکٹر صاحب  خود ایک اتھارٹی ہیں اور خود اپنے اوپر تنقید کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں کہ میں نے اگر طنز و مزاح کے گڑھ لائلپور یا فیصل آباد میں چوتھائی صدی نہ گزاری ہوتی تو میرے اندر کا اصلاحی جذبہ طنز اور  شگفتگی کی شکل میں باہر نہ آتا۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو اس سیریز میں نہ صرف سب سے زیادہ کتب ہیں جو ایک منفرد انداز میں مقامی و عالمی سیاست، مذاہب، نیز دیگر سماجی موضوعات پر طنزیہ و فکاہیہ انداز میں تخلیق شدہ تاریخ کا شاندار اور متاثر کن عالمی منظر نامہ پیش کرتی ہیں جسے ڈاکٹر صاحب نے اپنی طنزیہ و فکاہیہ ندرت اظہار کے باعث اسے میٹھا سچ سیریز کا نام دے دیا ۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ مصنف مقامی طور پر قلیل مدتی طاقتوں کی سماجی خرابیوں کے ساتھ ساتھ عالمی سیاست کی خود غرضی کا بھی سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ یہ سیریز ایک شان اور روشنی کے ساتھ بیشمار سیاسی، سماجی اور منطقی حل بھی فکاہیہ انداز میں پیش کرتی ہے۔ مصنف نے ملک کے نمایاں مزاح نگار کرنل محمد خان اور ظفر اقبال کی طرز سے متاثر ہو کر مزاح لکھنے کا آغاز گو کہ کالج لائف سے شروع کر دیا تھا مگر اس انداز کو مہمیز تب ملی جب وہ نیویارک میں ممتاز صحافی محسن ظہیر کی ادارت میں شائع ہونے والے ہفت روزہ “صدائے پاکستان” سے شام کے اوقات میں بحیثیت سب ایڈیٹر منسلک ہوئے۔  نیز انہوں نے لاہور کے چند اخبارات میں اپنے فکاہیہ کالم میٹھا سچ کے نام سے ہی لکھنے شروع کر دیے۔ بقول ڈاکٹر صاحب جگت بازی اور فکاہیہ اندازِ بیان میراثی یا جگت باز کو حکمت و دانش سے جدا کرتا ہے۔ اور طنزیہ ادب کو سنجیدہ کرتا ہے۔یہ طنزیہ یا فکاہیہ ادب تب تشکیل پاتاہے جب معاشرے کے سنجیدہ اور تعلیم یافتہ لکھاریوں پر حکومتوں کا غیر جمہوری رویہ  قوتِ اظہار کو مثاثر کرتا ہے۔ ڈاکٹر سلطان محمود خود اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ اپنے دورِ ملازمت میں ان کے پانچ برس ایسے بھی گزرے کہ جس میں ان کی کمپنی کا کرتہ دھرتہ شہباز شریف تھا  اور مچھل رانا  ثنا اللہ اُس کا دایاں بازو تھا۔ ڈاکٹر صاحب کا طنزیہ کالم”شکر ہے وہ خواب تھا” پڑھ کر میاں وقارششدر رہ گئے کہ اپنے باس کے بارے میں ایسے سخت الفاظ بھلے سے حماقت ہو  یا جرات پر ڈرائینگ روم کی سیر تو کرا سکتی ہے۔اس پر ڈاکٹر صاحب نے تاریخی بات کی جو بعد میں عمران خان  بھی کہتے رہے کہ شریف خاندان نہ تو پڑھا لکھا ہے اور نہ ہی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے نہ کسی نے پڑھا اور نہ پیشی ہوئی۔

ڈاکٹر سلطان محمود کا بچپن ہی سے شاعرانہ مزاج ہے جسے اظہار کا موقعہ کالج لائف میں کسی ناکام  اور یک طرفہ محبت کے جھٹکے سے ملا۔ وہ اپنی جبلت کی افتاد سے خود ہی نالاں بھی تھے جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ انہوں نے نہ صرف کبھی کل وقتی شاعر بننا گوارا کیا بلکہ شاعر کہلوانے سے بھی صاف انکار کرتے ہوئے یہ دلیل اختیار کی کہ میں نے کاغذی شیر بننا کبھی بھی پسند  نہیں کیا اور دوسری رکاوٹ ان کی سائنس میں اعلی تعلیم بن گئی جو پاکستان کے علاوہ یورپ اور امریکہ سے حاصل شدہ تھی جہاں شاعروں کو کارآمد اور قابل استعمال وقت کا دشمن سمجھ کر تنقیدی چھلنیوں سے گزارا جاتا تھا۔ اس کے باوجود تین چار برس میں عروض سمجھے بغیر سینکڑوں غزلیات کہہ دینا شاید ساحر لدھیانوی کی کتاب “تلخیاں” بنی جو عین ناکام عشق کے دوران ان کے ہاتھ لگ گئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب چونکہ اپنی ہر نگارش کو بچوں کا سا پیار دیتے ہیں اس لئے انہیں بعض دوستوں نے کلام شائع کرنے پر قائل کر لیا جن میں عروض کی استاد محترمہ کنیز بتول کھوکھر کا بڑا ہاتھ ہے جنہوں نے ڈاکٹر صاحب کی لگ بھگ 66 غزلوں پر مشتمل ایک کتاب کے مواد کو عروض پر بھی ڈھال دیا اور جہلم کے ایک استاد شاعر کاشف بٹ نے بھی اصلاح کی۔ ڈاکٹر سلطان محمود جب اپنی فکر کو تحریر ی شکل دینے لگے تو انہیں  معاصرین  نے بے حد  مشکل سے راضی کیا کہ وہ اپنے چالیس برس پرانے کلام کو بھی اپنی تحریر میں شامل کریں۔ شاید ڈاکٹر صاحب کی  یہ غلطی یا  صرف ِنظر ہی سمجھا جائے گا کہ وہ بہترین کلام غیر ممالک میں تو اردو کمیونیٹی کو  سناتے رہے لیکن ملک عزیز کے اندرونی حلقوں میں قدم تک نہ رکھا۔  لیکن ایسا نہیں کہ وہ اپنے شعری ذوق کے انکاری تھے۔ کیونکہ انہوں نے ہمیشہ اپنے برادر بزرگ ڈاکٹر حسن اختر مرحوم ، استاد پروفیسر عظمت اللہ خان مرحوم اور دیگر ادبی مقربین کا ذکر بہت شوق اور محبت سے کیا اور ازمنہ پیوستہ کے استاد شعراء اقبال، فیض، فراز، منیر نیازی، ساحر، امجد اسلام امجد، وغیرہ کو نہایت ادب اور پیار سے احترام کے درجے پر رکھا۔

بھلا ہو ورلڈ بنک کا جس نے ڈاکٹر سلطان محمود کو تصویری بنک بنانے کی عادت ڈال دی۔ حالانکہ انہوں نے محض دس برس کی عمر میں جیب خرچ بچا کر کوڈک کا دس روپے کا کیمرہ 1967 میں ہی خرید لیا تھا اور اپنے بھائی ہمایوں شوکت کے واحد جس تحفے  کی وہ قدر کرتے تھے وہ  اس کا امریکہ سے لایا  ہواکیمرہ یاشیکا 124 تھا۔ ایسے ہی ان کے استعمال  میں وارسا پولینڈ میں روسی کیمرے  “زینتھ”، جرمن  “پیٹنس” اور جاپانی “نیکن”کیمرے بھی رہے لیکن پھر ڈیجٹل کیمروں اور موبائل کیمروں نے تو انہیں نہال ہی کر دیا۔ ان کے پاس بزرگوں کے علاوہ  مشاہیرِ زمانہ کی بیشمار تصاویر بھی موجود ہیں جو ہر وقت ان کے لیپ ٹاپ اور سیل فونز کی سپیس کھاتی نظر آتی ہیں۔ اس مشکل کے ہاتھوں انہوں نے مجبور ہو کر اور میاں وقارالاسلام کی صلاح لے کر فیصلہ کیا ہے کہ اپنی زندگی کی کہانی کی دسویں سیریز  کو البم کی شکل میں  بنائیں گے۔جو بنا  دینے کے بعد وہ بچوں کی طرح خوش ہیں، کہ اب انہیں  ” ماس ڈرائیوز” ساتھ ساتھ لیے پھرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔


رابطہ کیجئے
لاہور ‏109-C/1، نیسپاک سوسائٹی، کالج روڈ

وٹس ایپ اور کالز
رابطہ نمبر:  00923214302528

مذید معلومات کے لیے
 info@drsultanmahmood.com
 www.drsultanmahmood.com

ای کیپ پروفیشنلز نے پچھلے ایک برس سے انوائرمنٹ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن پاکستان کی موجودہ بارہویں میٹنگ کو ملا کر ایک بامقصد انداز میں متحرک رکھا ہوا ہے اور یہ پونے دو سو اراکین پر مشتمل ایک ایسا بااعتماد ماحولیاتی گروپ ہے جو عالمی، قومی اور مقامی ماحول پر توجہ…

View more

ملتان سے سیالکوٹ تک علمی، ادبی اور ثقافتی دوستی کا سفرتحریر: میاں وقارالاسلام کرونا کی وجہ سے سماجی فاصلے اس قدر بڑھتے جا رہے تھے کہ ایسا لگتا تھا کہ دوستوں سے ملے ہوئے صدیاں ہی گذر گئیں۔ دوریاں تو تھیں ہی، مگر دوریاں بھی ایسی کہ کہیں سے جب…

View more

“غذائی علاج” توں “تفریحی علاج” تک رپورٹ: میاں وقارالاسلام، فاؤنڈر، وقارِ پاکستان لیٹریری ریسرچ کلاؤڈ 27 نومبر 2021 نوں، محمد ذوالقرنین مغل صاحب، جو کہ ایکمے انسٹیٹیوٹ آف سیفٹی پروفیشنلز دے ڈائریکٹر جنرل نے ڈاکٹر سلطان محمود دی کتاب “غذائی علاج” دی رونمائی دی تقریب دا انعقاد کیتا۔ ایہہ تقریب…

View more

ادب سرائے سے سرائے ادب تکتحریر: میاں وقارالاسلاممادرِ دبستانِ لاہور ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کی ادبی تنظم ادب سرائے انٹرنیشل یقینا ایک ادبی نرسری کی حیثیت رکھتی ہے۔ ادب سرائے انٹرنیشنل کی مٹی نم بھی ہے اور ذرخیز بھی۔ اور جو رشتوں اسی مٹی سے پروان چڑھے ان میں ایک…

View more

تقریظی مضامین