
سیریز ہشتم: طنز و مزاح
اس جہت پر ڈاکٹر صاحب خود ایک اتھارٹی ہیں اور خود اپنے اوپر تنقید کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں کہ میں نے اگر طنز و مزاح کے گڑھ لائلپور یا فیصل آباد میں چوتھائی صدی نہ گزاری ہوتی تو میرے اندر کا اصلاحی جذبہ طنز اور شگفتگی کی شکل میں باہر نہ آتا۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو اس سیریز میں نہ صرف سب سے زیادہ کتب ہیں جو ایک منفرد انداز میں مقامی و عالمی سیاست، مذاہب، نیز دیگر سماجی موضوعات پر طنزیہ و فکاہیہ انداز میں تخلیق شدہ تاریخ کا شاندار اور متاثر کن عالمی منظر نامہ پیش کرتی ہیں جسے ڈاکٹر صاحب نے اپنی طنزیہ و فکاہیہ ندرت اظہار کے باعث اسے میٹھا سچ سیریز کا نام دے دیا ۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ مصنف مقامی طور پر قلیل مدتی طاقتوں کی سماجی خرابیوں کے ساتھ ساتھ عالمی سیاست کی خود غرضی کا بھی سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ یہ سیریز ایک شان اور روشنی کے ساتھ بیشمار سیاسی، سماجی اور منطقی حل بھی فکاہیہ انداز میں پیش کرتی ہے۔ مصنف نے ملک کے نمایاں مزاح نگار کرنل محمد خان اور ظفر اقبال کی طرز سے متاثر ہو کر مزاح لکھنے کا آغاز گو کہ کالج لائف سے شروع کر دیا تھا مگر اس انداز کو مہمیز تب ملی جب وہ نیویارک میں ممتاز صحافی محسن ظہیر کی ادارت میں شائع ہونے والے ہفت روزہ “صدائے پاکستان” سے شام کے اوقات میں بحیثیت سب ایڈیٹر منسلک ہوئے۔ نیز انہوں نے لاہور کے چند اخبارات میں اپنے فکاہیہ کالم میٹھا سچ کے نام سے ہی لکھنے شروع کر دیے۔ بقول ڈاکٹر صاحب جگت بازی اور فکاہیہ اندازِ بیان میراثی یا جگت باز کو حکمت و دانش سے جدا کرتا ہے۔ اور طنزیہ ادب کو سنجیدہ کرتا ہے۔یہ طنزیہ یا فکاہیہ ادب تب تشکیل پاتاہے جب معاشرے کے سنجیدہ اور تعلیم یافتہ لکھاریوں پر حکومتوں کا غیر جمہوری رویہ قوتِ اظہار کو مثاثر کرتا ہے۔ ڈاکٹر سلطان محمود خود اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ اپنے دورِ ملازمت میں ان کے پانچ برس ایسے بھی گزرے کہ جس میں ان کی کمپنی کا کرتہ دھرتہ شہباز شریف تھا اور مچھل رانا ثنا اللہ اُس کا دایاں بازو تھا۔ ڈاکٹر صاحب کا طنزیہ کالم”شکر ہے وہ خواب تھا” پڑھ کر میاں وقارششدر رہ گئے کہ اپنے باس کے بارے میں ایسے سخت الفاظ بھلے سے حماقت ہو یا جرات پر ڈرائینگ روم کی سیر تو کرا سکتی ہے۔اس پر ڈاکٹر صاحب نے تاریخی بات کی جو بعد میں عمران خان بھی کہتے رہے کہ شریف خاندان نہ تو پڑھا لکھا ہے اور نہ ہی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے نہ کسی نے پڑھا اور نہ پیشی ہوئی۔

Series Eight: Humor and Satire
Dr. Sultan Mahmood reflects on the role of satire and humor in his life and work. Having spent a significant time in Faisalabad, he developed a unique sense of humor that became a tool for social criticism. This series features his satirical writings, which provide insightful commentary on politics, social issues, and governance. His humorous approach serves as a means of engaging readers while addressing serious societal concerns.

