فکرِ سلطان سیریز، ڈاکٹر سلطان محمود

اس جہت پر ڈاکٹر صاحب  خود ایک اتھارٹی ہیں اور خود اپنے اوپر تنقید کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں کہ میں نے اگر طنز و مزاح کے گڑھ لائلپور یا فیصل آباد میں چوتھائی صدی نہ گزاری ہوتی تو میرے اندر کا اصلاحی جذبہ طنز اور  شگفتگی کی شکل میں باہر نہ آتا۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو اس سیریز میں نہ صرف سب سے زیادہ کتب ہیں جو ایک منفرد انداز میں مقامی و عالمی سیاست، مذاہب، نیز دیگر سماجی موضوعات پر طنزیہ و فکاہیہ انداز میں تخلیق شدہ تاریخ کا شاندار اور متاثر کن عالمی منظر نامہ پیش کرتی ہیں جسے ڈاکٹر صاحب نے اپنی طنزیہ و فکاہیہ ندرت اظہار کے باعث اسے میٹھا سچ سیریز کا نام دے دیا ۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ مصنف مقامی طور پر قلیل مدتی طاقتوں کی سماجی خرابیوں کے ساتھ ساتھ عالمی سیاست کی خود غرضی کا بھی سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ یہ سیریز ایک شان اور روشنی کے ساتھ بیشمار سیاسی، سماجی اور منطقی حل بھی فکاہیہ انداز میں پیش کرتی ہے۔ مصنف نے ملک کے نمایاں مزاح نگار کرنل محمد خان اور ظفر اقبال کی طرز سے متاثر ہو کر مزاح لکھنے کا آغاز گو کہ کالج لائف سے شروع کر دیا تھا مگر اس انداز کو مہمیز تب ملی جب وہ نیویارک میں ممتاز صحافی محسن ظہیر کی ادارت میں شائع ہونے والے ہفت روزہ “صدائے پاکستان” سے شام کے اوقات میں بحیثیت سب ایڈیٹر منسلک ہوئے۔  نیز انہوں نے لاہور کے چند اخبارات میں اپنے فکاہیہ کالم میٹھا سچ کے نام سے ہی لکھنے شروع کر دیے۔ بقول ڈاکٹر صاحب جگت بازی اور فکاہیہ اندازِ بیان میراثی یا جگت باز کو حکمت و دانش سے جدا کرتا ہے۔ اور طنزیہ ادب کو سنجیدہ کرتا ہے۔یہ طنزیہ یا فکاہیہ ادب تب تشکیل پاتاہے جب معاشرے کے سنجیدہ اور تعلیم یافتہ لکھاریوں پر حکومتوں کا غیر جمہوری رویہ  قوتِ اظہار کو مثاثر کرتا ہے۔ ڈاکٹر سلطان محمود خود اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ اپنے دورِ ملازمت میں ان کے پانچ برس ایسے بھی گزرے کہ جس میں ان کی کمپنی کا کرتہ دھرتہ شہباز شریف تھا  اور مچھل رانا  ثنا اللہ اُس کا دایاں بازو تھا۔ ڈاکٹر صاحب کا طنزیہ کالم”شکر ہے وہ خواب تھا” پڑھ کر میاں وقارششدر رہ گئے کہ اپنے باس کے بارے میں ایسے سخت الفاظ بھلے سے حماقت ہو  یا جرات پر ڈرائینگ روم کی سیر تو کرا سکتی ہے۔اس پر ڈاکٹر صاحب نے تاریخی بات کی جو بعد میں عمران خان  بھی کہتے رہے کہ شریف خاندان نہ تو پڑھا لکھا ہے اور نہ ہی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے نہ کسی نے پڑھا اور نہ پیشی ہوئی۔

Dr. Sultan Mahmood reflects on the role of satire and humor in his life and work. Having spent a significant time in Faisalabad, he developed a unique sense of humor that became a tool for social criticism. This series features his satirical writings, which provide insightful commentary on politics, social issues, and governance. His humorous approach serves as a means of engaging readers while addressing serious societal concerns.


رابطہ کیجئے
لاہور ‏109-C/1، نیسپاک سوسائٹی، کالج روڈ

وٹس ایپ اور کالز
رابطہ نمبر:  00923214302528

مذید معلومات کے لیے
 info@drsultanmahmood.com
 www.drsultanmahmood.com

ادب سرائے سے سرائے ادب تکتحریر: میاں وقارالاسلاممادرِ دبستانِ لاہور ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کی ادبی تنظم ادب سرائے انٹرنیشل یقینا ایک ادبی نرسری کی حیثیت رکھتی ہے۔ ادب سرائے انٹرنیشنل کی مٹی نم بھی ہے اور ذرخیز بھی۔ اور جو رشتوں اسی مٹی سے پروان چڑھے ان میں ایک…

View more

ملتان سے سیالکوٹ تک علمی، ادبی اور ثقافتی دوستی کا سفرتحریر: میاں وقارالاسلام کرونا کی وجہ سے سماجی فاصلے اس قدر بڑھتے جا رہے تھے کہ ایسا لگتا تھا کہ دوستوں سے ملے ہوئے صدیاں ہی گذر گئیں۔ دوریاں تو تھیں ہی، مگر دوریاں بھی ایسی کہ کہیں سے جب…

View more

“غذائی علاج” توں “تفریحی علاج” تک رپورٹ: میاں وقارالاسلام، فاؤنڈر، وقارِ پاکستان لیٹریری ریسرچ کلاؤڈ 27 نومبر 2021 نوں، محمد ذوالقرنین مغل صاحب، جو کہ ایکمے انسٹیٹیوٹ آف سیفٹی پروفیشنلز دے ڈائریکٹر جنرل نے ڈاکٹر سلطان محمود دی کتاب “غذائی علاج” دی رونمائی دی تقریب دا انعقاد کیتا۔ ایہہ تقریب…

View more

ای کیپ پروفیشنلز نے پچھلے ایک برس سے انوائرمنٹ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن پاکستان کی موجودہ بارہویں میٹنگ کو ملا کر ایک بامقصد انداز میں متحرک رکھا ہوا ہے اور یہ پونے دو سو اراکین پر مشتمل ایک ایسا بااعتماد ماحولیاتی گروپ ہے جو عالمی، قومی اور مقامی ماحول پر توجہ…

View more

تقریظی مضامین