فکرِ سلطان سیریز، ڈاکٹر سلطان محمود

ڈاکٹر سلطان محمود کا بچپن ہی سے شاعرانہ مزاج ہے جسے اظہار کا موقعہ کالج لائف میں کسی ناکام  اور یک طرفہ محبت کے جھٹکے سے ملا۔ وہ اپنی جبلت کی افتاد سے خود ہی نالاں بھی تھے جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ انہوں نے نہ صرف کبھی کل وقتی شاعر بننا گوارا کیا بلکہ شاعر کہلوانے سے بھی صاف انکار کرتے ہوئے یہ دلیل اختیار کی کہ میں نے کاغذی شیر بننا کبھی بھی پسند  نہیں کیا اور دوسری رکاوٹ ان کی سائنس میں اعلی تعلیم بن گئی جو پاکستان کے علاوہ یورپ اور امریکہ سے حاصل شدہ تھی جہاں شاعروں کو کارآمد اور قابل استعمال وقت کا دشمن سمجھ کر تنقیدی چھلنیوں سے گزارا جاتا تھا۔ اس کے باوجود تین چار برس میں عروض سمجھے بغیر سینکڑوں غزلیات کہہ دینا شاید ساحر لدھیانوی کی کتاب “تلخیاں” بنی جو عین ناکام عشق کے دوران ان کے ہاتھ لگ گئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب چونکہ اپنی ہر نگارش کو بچوں کا سا پیار دیتے ہیں اس لئے انہیں بعض دوستوں نے کلام شائع کرنے پر قائل کر لیا جن میں عروض کی استاد محترمہ کنیز بتول کھوکھر کا بڑا ہاتھ ہے جنہوں نے ڈاکٹر صاحب کی لگ بھگ 66 غزلوں پر مشتمل ایک کتاب کے مواد کو عروض پر بھی ڈھال دیا اور جہلم کے ایک استاد شاعر کاشف بٹ نے بھی اصلاح کی۔ ڈاکٹر سلطان محمود جب اپنی فکر کو تحریر ی شکل دینے لگے تو انہیں  معاصرین  نے بے حد  مشکل سے راضی کیا کہ وہ اپنے چالیس برس پرانے کلام کو بھی اپنی تحریر میں شامل کریں۔ شاید ڈاکٹر صاحب کی  یہ غلطی یا  صرف ِنظر ہی سمجھا جائے گا کہ وہ بہترین کلام غیر ممالک میں تو اردو کمیونیٹی کو  سناتے رہے لیکن ملک عزیز کے اندرونی حلقوں میں قدم تک نہ رکھا۔  لیکن ایسا نہیں کہ وہ اپنے شعری ذوق کے انکاری تھے۔ کیونکہ انہوں نے ہمیشہ اپنے برادر بزرگ ڈاکٹر حسن اختر مرحوم ، استاد پروفیسر عظمت اللہ خان مرحوم اور دیگر ادبی مقربین کا ذکر بہت شوق اور محبت سے کیا اور ازمنہ پیوستہ کے استاد شعراء اقبال، فیض، فراز، منیر نیازی، ساحر، امجد اسلام امجد، وغیرہ کو نہایت ادب اور پیار سے احترام کے درجے پر رکھا۔

Dr. Sultan Mahmood’s poetic inclinations emerged during his youth, spurred by personal experiences and unrequited love. Despite his scientific background, he found solace and expression in poetry. His love for poetry, combined with his intellectual pursuits, led to the creation of numerous ghazals, some of which were compiled in a book with the help of his mentor. This series offers a glimpse into his poetic journey and the emotional depth behind his creative expression.


رابطہ کیجئے
لاہور ‏109-C/1، نیسپاک سوسائٹی، کالج روڈ

وٹس ایپ اور کالز
رابطہ نمبر:  00923214302528

مذید معلومات کے لیے
 info@drsultanmahmood.com
 www.drsultanmahmood.com

ای کیپ پروفیشنلز نے پچھلے ایک برس سے انوائرمنٹ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن پاکستان کی موجودہ بارہویں میٹنگ کو ملا کر ایک بامقصد انداز میں متحرک رکھا ہوا ہے اور یہ پونے دو سو اراکین پر مشتمل ایک ایسا بااعتماد ماحولیاتی گروپ ہے جو عالمی، قومی اور مقامی ماحول پر توجہ…

View more

ادب سرائے سے سرائے ادب تکتحریر: میاں وقارالاسلاممادرِ دبستانِ لاہور ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کی ادبی تنظم ادب سرائے انٹرنیشل یقینا ایک ادبی نرسری کی حیثیت رکھتی ہے۔ ادب سرائے انٹرنیشنل کی مٹی نم بھی ہے اور ذرخیز بھی۔ اور جو رشتوں اسی مٹی سے پروان چڑھے ان میں ایک…

View more

“غذائی علاج” توں “تفریحی علاج” تک رپورٹ: میاں وقارالاسلام، فاؤنڈر، وقارِ پاکستان لیٹریری ریسرچ کلاؤڈ 27 نومبر 2021 نوں، محمد ذوالقرنین مغل صاحب، جو کہ ایکمے انسٹیٹیوٹ آف سیفٹی پروفیشنلز دے ڈائریکٹر جنرل نے ڈاکٹر سلطان محمود دی کتاب “غذائی علاج” دی رونمائی دی تقریب دا انعقاد کیتا۔ ایہہ تقریب…

View more

ملتان سے سیالکوٹ تک علمی، ادبی اور ثقافتی دوستی کا سفرتحریر: میاں وقارالاسلام کرونا کی وجہ سے سماجی فاصلے اس قدر بڑھتے جا رہے تھے کہ ایسا لگتا تھا کہ دوستوں سے ملے ہوئے صدیاں ہی گذر گئیں۔ دوریاں تو تھیں ہی، مگر دوریاں بھی ایسی کہ کہیں سے جب…

View more

تقریظی مضامین