
سیریز نہم: شعر و شاعری
ڈاکٹر سلطان محمود کا بچپن ہی سے شاعرانہ مزاج ہے جسے اظہار کا موقعہ کالج لائف میں کسی ناکام اور یک طرفہ محبت کے جھٹکے سے ملا۔ وہ اپنی جبلت کی افتاد سے خود ہی نالاں بھی تھے جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ انہوں نے نہ صرف کبھی کل وقتی شاعر بننا گوارا کیا بلکہ شاعر کہلوانے سے بھی صاف انکار کرتے ہوئے یہ دلیل اختیار کی کہ میں نے کاغذی شیر بننا کبھی بھی پسند نہیں کیا اور دوسری رکاوٹ ان کی سائنس میں اعلی تعلیم بن گئی جو پاکستان کے علاوہ یورپ اور امریکہ سے حاصل شدہ تھی جہاں شاعروں کو کارآمد اور قابل استعمال وقت کا دشمن سمجھ کر تنقیدی چھلنیوں سے گزارا جاتا تھا۔ اس کے باوجود تین چار برس میں عروض سمجھے بغیر سینکڑوں غزلیات کہہ دینا شاید ساحر لدھیانوی کی کتاب “تلخیاں” بنی جو عین ناکام عشق کے دوران ان کے ہاتھ لگ گئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب چونکہ اپنی ہر نگارش کو بچوں کا سا پیار دیتے ہیں اس لئے انہیں بعض دوستوں نے کلام شائع کرنے پر قائل کر لیا جن میں عروض کی استاد محترمہ کنیز بتول کھوکھر کا بڑا ہاتھ ہے جنہوں نے ڈاکٹر صاحب کی لگ بھگ 66 غزلوں پر مشتمل ایک کتاب کے مواد کو عروض پر بھی ڈھال دیا اور جہلم کے ایک استاد شاعر کاشف بٹ نے بھی اصلاح کی۔ ڈاکٹر سلطان محمود جب اپنی فکر کو تحریر ی شکل دینے لگے تو انہیں معاصرین نے بے حد مشکل سے راضی کیا کہ وہ اپنے چالیس برس پرانے کلام کو بھی اپنی تحریر میں شامل کریں۔ شاید ڈاکٹر صاحب کی یہ غلطی یا صرف ِنظر ہی سمجھا جائے گا کہ وہ بہترین کلام غیر ممالک میں تو اردو کمیونیٹی کو سناتے رہے لیکن ملک عزیز کے اندرونی حلقوں میں قدم تک نہ رکھا۔ لیکن ایسا نہیں کہ وہ اپنے شعری ذوق کے انکاری تھے۔ کیونکہ انہوں نے ہمیشہ اپنے برادر بزرگ ڈاکٹر حسن اختر مرحوم ، استاد پروفیسر عظمت اللہ خان مرحوم اور دیگر ادبی مقربین کا ذکر بہت شوق اور محبت سے کیا اور ازمنہ پیوستہ کے استاد شعراء اقبال، فیض، فراز، منیر نیازی، ساحر، امجد اسلام امجد، وغیرہ کو نہایت ادب اور پیار سے احترام کے درجے پر رکھا۔

Series Nine: Poetry
Dr. Sultan Mahmood’s poetic inclinations emerged during his youth, spurred by personal experiences and unrequited love. Despite his scientific background, he found solace and expression in poetry. His love for poetry, combined with his intellectual pursuits, led to the creation of numerous ghazals, some of which were compiled in a book with the help of his mentor. This series offers a glimpse into his poetic journey and the emotional depth behind his creative expression.

