
سیریزہفتم: سماجی روئیے
ڈاکٹر سلطان محمود اپنے عالمی ایکسپوژر کے باعث خلیجی ممالک میں رواج پا جانے والے حالیہ شعبہ جات میں ماحولیات سے متصلہ کارپوریٹ سیکٹر کی نئی جہت ای ایس جی سے کافی متاثر ہوئے لہذا انہوں نے ملک عزیز کی اس شعبہ میں لاعلمی کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی کل نگارشات میں سے سوشل اور گورننس کے شعبہ جات کو ماحولیات کی کتب کے علاؤہ خود مختار کتابی درجہ دے دیا اور اس کے لئے انہوں نے کارپوریٹ سیکٹر کی بڑھوتری میں سیاست، مذہب، تعلیم، آبادی، تکنیکی تربیت، شہری و دیہی ترقی وغیرہ جیسے اہم موضوعات پر جو کچھ تجربات حاصل کئے تھے اسے اکٹھا کر کے اس سیریز کا حصہ بنا دیا ہے۔ سابقہ اعتبار سے وہ اپنی نگارشات کو حاصل مطالعہ بھی کہتے ہیں اور کامن سینس کا بھی نام دیتے رہے یعنی اس مطالعے کا حاصل جو انہوں نے مغرب سے حاصل کیا اور سنجیدہ عملی و علمی سفر کو اپنے وطن میں بھی اپنی ہمت کے مطابق لاگو کر دیا۔ گو کہ وہ اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ “کامن سینس” اتنی بھی کامن نہیں ہوتی” لیکن اُمید ِواثق بھی جاری رکھی کہ جونہی عوام خصوصا ََکسان میں تعلیمی کمی دور ہو گی،سماج میں لازمی بہتری آئے گی۔

Series Seven: Social Attitudes
Dr. Sultan Mahmood explores how social and governance issues, especially in the corporate sector, impact the environment and food security. Drawing on his experiences in the Middle East, he critiques Pakistan’s lack of awareness about environmental, social, and governance (ESG) practices. This series emphasizes the importance of education and awareness in shaping societal values and improving governance structures.

