
سیریز ششم: دیہی ترقی
ویسے تو حیوانات کی افزائش ایک دیہی موضوع ہے جہاں ہمارا 70 فی صد کسان اپنا خون جلا کر صبح شام انسانی غذا ئیں پیدا کرتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں کے غیر متوازن دیہی ترقی کے میدان کی بجائے ہمیشہ شہری ترقی و سہولیات کو اولیت حاصل رہتی ہے۔ جس نے ایک جانب اگر غذائی عدم تحفظ کا خطرہ مول لے لیا ہے تو دوسری جانب شہر کی طرف نقل مقانی یعنی اربنائزیشن کی عفریت کو بھی جنم دیا ہے۔ ایسے غیر دانشمندانہ حکومتی اقدامات کا نتیجہ ایک ایسی بے ہنگم معاشرتی زندگی کی شکل میں رونما ہوا ہے کہ جس میں حکومت گاؤں چھوڑکر شہر میں بسنے والوں کے مسائل کو شہری ترقی کی ناکامی کی شکل میں سہہ رہی ہے اور نہ ان کو خداہی مل پا رہا ہے اور نہ وصالِ صنم ہو رہا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو تو خیر چھوڑیں اگر کل کے غریب چین اور بھارت ہی کی مثال لے لیں تو ان کے ہاں غذائی تحفظ شہر و دیہاتی زندگی میں توازن لانے سے ممکن ہوا ہے۔ اور محض بیس برس میں ان دو ممالک کے دو ارب لوگ دن میں ایک کھانے سے دو کھانوں کے قابل ہو گئے ہیں۔ ان دونوں ممالک نے اپنے آبی ذخائر پر ہزاروں ڈیم بنا دیئے ہیں جن سے وہ نہ صرف غذائی تحفظ یقنی بنا رہے ہیں بلکہ اپنی توانائی کی ضروریات بھی پوری کر رہے ہیں ۔ حالانکہ عالمی موسمی تبدیلیاں ان پر بھی ویسے ہی اثر انداز ہورہی ہیں جیسے باقی کرہء ارض پر رونما ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر سلطان محمود مانتے ہیں کہ اگر انہوں نے کبھی بلوچستان کی دیہی ترقی BRSP میں کام نہ کیا ہوتا تو وہ یقینا غذائی تحفظ میں دیہی اداروں کی افادیت سے قما حقہ واقف نہ ہو سکتے۔

Series Six: Rural Development
Dr. Sultan Mahmood critiques the imbalanced development between rural and urban areas in Pakistan. His work in rural development, particularly in Balochistan, highlighted the importance of investing in rural infrastructure and agricultural practices to achieve food security and sustainable development. This series draws comparisons to successful models in China and India, where balanced development between cities and rural areas has lifted millions out of food insecurity.

