فکرِ سلطان سیریز، ڈاکٹر سلطان محمود

بھلا ہو ورلڈ بنک کا جس نے ڈاکٹر سلطان محمود کو تصویری بنک بنانے کی عادت ڈال دی۔ حالانکہ انہوں نے محض دس برس کی عمر میں جیب خرچ بچا کر کوڈک کا دس روپے کا کیمرہ 1967 میں ہی خرید لیا تھا اور اپنے بھائی ہمایوں شوکت کے واحد جس تحفے  کی وہ قدر کرتے تھے وہ  اس کا امریکہ سے لایا  ہواکیمرہ یاشیکا 124 تھا۔ ایسے ہی ان کے استعمال  میں وارسا پولینڈ میں روسی کیمرے  “زینتھ”، جرمن  “پیٹنس” اور جاپانی “نیکن”کیمرے بھی رہے لیکن پھر ڈیجٹل کیمروں اور موبائل کیمروں نے تو انہیں نہال ہی کر دیا۔ ان کے پاس بزرگوں کے علاوہ  مشاہیرِ زمانہ کی بیشمار تصاویر بھی موجود ہیں جو ہر وقت ان کے لیپ ٹاپ اور سیل فونز کی سپیس کھاتی نظر آتی ہیں۔ اس مشکل کے ہاتھوں انہوں نے مجبور ہو کر اور میاں وقارالاسلام کی صلاح لے کر فیصلہ کیا ہے کہ اپنی زندگی کی کہانی کی دسویں سیریز  کو البم کی شکل میں  بنائیں گے۔جو بنا  دینے کے بعد وہ بچوں کی طرح خوش ہیں، کہ اب انہیں  ” ماس ڈرائیوز” ساتھ ساتھ لیے پھرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

Dr. Sultan Mahmood’s love for photography began at a young age. In 1967, at just 10 years old, he saved his pocket money to purchase a Kodak camera for ten rupees, later appreciating a gift from his brother Humayun Shaukat—a Yashica 124 camera that had been brought from the United States. Over the years, he used various cameras, including Russian “Zenith,” German “Petens,” and Japanese “Nikon,” before eventually embracing digital and mobile cameras. His collection includes countless photographs, not only of elders but also of contemporary luminaries. These images constantly occupy space on his laptops and mobile phones. Faced with the challenge of managing this growing collection, he decided to compile his life’s story in a photo album. After consulting with Waqarul Islam, he found great joy in this decision, as it meant he no longer needed to carry multiple “mass drives” around. Now, he cherishes the photos in a more organized format, relishing the process of creating the album and the memories it holds.


رابطہ کیجئے
لاہور ‏109-C/1، نیسپاک سوسائٹی، کالج روڈ

وٹس ایپ اور کالز
رابطہ نمبر:  00923214302528

مذید معلومات کے لیے
 info@drsultanmahmood.com
 www.drsultanmahmood.com

“غذائی علاج” توں “تفریحی علاج” تک رپورٹ: میاں وقارالاسلام، فاؤنڈر، وقارِ پاکستان لیٹریری ریسرچ کلاؤڈ 27 نومبر 2021 نوں، محمد ذوالقرنین مغل صاحب، جو کہ ایکمے انسٹیٹیوٹ آف سیفٹی پروفیشنلز دے ڈائریکٹر جنرل نے ڈاکٹر سلطان محمود دی کتاب “غذائی علاج” دی رونمائی دی تقریب دا انعقاد کیتا۔ ایہہ تقریب…

View more

ملتان سے سیالکوٹ تک علمی، ادبی اور ثقافتی دوستی کا سفرتحریر: میاں وقارالاسلام کرونا کی وجہ سے سماجی فاصلے اس قدر بڑھتے جا رہے تھے کہ ایسا لگتا تھا کہ دوستوں سے ملے ہوئے صدیاں ہی گذر گئیں۔ دوریاں تو تھیں ہی، مگر دوریاں بھی ایسی کہ کہیں سے جب…

View more

ای کیپ پروفیشنلز نے پچھلے ایک برس سے انوائرمنٹ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن پاکستان کی موجودہ بارہویں میٹنگ کو ملا کر ایک بامقصد انداز میں متحرک رکھا ہوا ہے اور یہ پونے دو سو اراکین پر مشتمل ایک ایسا بااعتماد ماحولیاتی گروپ ہے جو عالمی، قومی اور مقامی ماحول پر توجہ…

View more

ادب سرائے سے سرائے ادب تکتحریر: میاں وقارالاسلاممادرِ دبستانِ لاہور ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کی ادبی تنظم ادب سرائے انٹرنیشل یقینا ایک ادبی نرسری کی حیثیت رکھتی ہے۔ ادب سرائے انٹرنیشنل کی مٹی نم بھی ہے اور ذرخیز بھی۔ اور جو رشتوں اسی مٹی سے پروان چڑھے ان میں ایک…

View more

تقریظی مضامین